<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/">
	<channel>
		<title><![CDATA[اردو انسٹیٹیوٹ - تمام فورمز]]></title>
		<link>http://urducomputing.com/</link>
		<description><![CDATA[اردو انسٹیٹیوٹ - http://urducomputing.com]]></description>
		<pubDate>Thu, 18 Mar 2010 22:52:26 -0600</pubDate>
		<generator>MyBB</generator>
		<item>
			<title><![CDATA[فیس بک کا مسلمانوں کی جاسوسی کیلئے استعمال]]></title>
			<link>http://urducomputing.com/thread-3038.html</link>
			<pubDate>Thu, 18 Mar 2010 11:32:04 -0600</pubDate>
			<dc:creator>مغل شہزادہ</dc:creator>
			<guid isPermaLink="false">http://urducomputing.com/thread-3038.html</guid>
			<description><![CDATA[<span style="color: #ff0000;"><span style="font-size: 17pt;"><div style="text-align: center;">
<img src="http://lifeinthenhs.files.wordpress.com/2009/02/facebook.jpg" border="0" alt="[تصویر: facebook.jpg&#93;" />  <br />
لندن : حالیہ برسوں کے دوران سماجی روابط کے فروغ کے لئے انٹرنیٹ ویب سائٹ فیس بک کے صارفین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے.اس سائٹ کے استعمال کنندگان اپنے مخصوص دوستوں کے لئے خاندان کے افراد کی تصاویر پوسٹ کرتے یا اپنے بارے میں نئی معلومات فراہم کرتے ہیں اور ایسا وہ یہ سمجھ کر کر رہے ہوتے ہیں کہ یہ ان کے نجی استعمال میں ہے لیکن ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل یہ ویب سائٹ مخالفین کے بارے میں مفید معلومات کے حصول اور لوگوں کے ذہنوں تک رسائی کے لئے استعمال کر رہا ہے. فرانس سے شائع ہونے والے ''اسرائیل میگزین'' نامی جریدے نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس زیادہ ترعرب اور مسلمان صارفین پر اپنی توجہ مرکوز کرتی ہے اور وہ ان کے فیس بک کے صفحات کو ان کی سرگرمیوں اور سوچ وفکر کے تجزیے کے لئے استعمال کر رہی ہے. میگزین کی اس رپورٹ پر اسرائیلی حکومت اور سفارتی حلقوں نے اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور پیرس میں متعین اسرائیلی سفیر نے میگزین پر دشمن کو کلاسفائیڈ معلومات فراہم کرنے کاالزام عاید کیا ہے. فرانس کی ایک یونیورسٹی میں نفسیات کے پروفیسر جیرارڈ نیروکس نے بتایا ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے اسرائیل کی خفیہ سرگرمیوں کا انکشاف مئی 2001ء میں ہوا تھا.<br />
نیروکس ''انٹرنیٹ کے خطرات'' نامی کتاب کے مصنف ہیں.ان کا کہنا ہے کہ ''یہ اسرائیلی نفسیات دانوں پر مشتمل ایک انٹیلی جنس نیٹ ورک ہے جو عرب دنیا اور خاص طور پر فلسطینی اسرائیلی تنازعے سے متعلق ممالک اور لاطینی امریکا کے ممالک پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں''. پروفیسر نیروکس نے میگزین کو بتایا کہ''مردوں کی ایک بہت بڑی تعداد خواتین سے ملنے کے لئے اس ویب سائٹ کو استعمال کرتی ہے لیکن یہ غیر محفوظ ہے کیونکہ یہ مردوں کو دھوکا دینے کا ایک بہترین ذریعہ ہے جس سے ان کی خامیوں کا بھی پتا چلایا جا سکتا ہے''.ان کا کہنا تھا کہ کسی مرد کی جاسوسی کے لئے کسی خاتون کو استعمال کرنا تو بہت ہی آسان کام ہے. یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ اسرائیل پرعام لوگوں کی جاسوسی کے لئے فیس بک کو استعمال کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے. اپریل 2008ء میں اردن کے ایک روزنامے الحقیقہ الدولیہ میں ''پوشیدہ دشمن'' کے عنوان سے شائع شدہ ایک مضمون میں بھی اس سے ملتے جلتے دعوے کئے گئے تھے. اخبار نے لکھا تھا کہ یہ بہت ہی خطرناک رجحان ہے کہ لوگ خاص طور پر نوجوان کسی دوسرے کی باتوں پراعتماد کرتے ہوئے فیس بک یا اسی طرح کی سماجی روابط کی ویب سائٹس پر اپنی جملہ ذاتی تفصیلات کا اظہار کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ان عناصر کا بآسانی ہدف بن جاتے ہیں جو اس طرح کے لوگوں کی تلاش میں ہوتے ہیں''. فیس بک کا نام عالمی سیاست میں بھی کوئی اجنبی نہیں ہے اور اسے مختلف ممالک کے اپوزیشن گروپ اپنی مہم کو آگے بڑھانے کے لئے استعمال کرتے ہیں.ایران میں صدارتی انتخابات کے بعد بدامنی کے دوران بھی اپوزیشن گروپوں نے اس سائٹ کو مظاہروں کو منظم کرنے کے لئے استعمال کیا تھا. ''اسرائیل میگزین'' کی رپورٹ کے مطابق فیس بک سے صہیونی ریاست کے دشمن ممالک میں رونما ہونے والے سیاسی واقعات کے بارے میں صہیونی انٹیلی جنس کو مفید معلومات فراہم ہوتی ہیں جنہیں وہ اپنی مستقبل کی منصوبہ بندی کے لئے استعمال کرتے ہیں اور اس کی روشنی ہی میں صہیونی دوسروں کے بارے میں اپنے فیصلے کرتے ہیں</div></span></span>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<span style="color: #ff0000;"><span style="font-size: 17pt;"><div style="text-align: center;">
<img src="http://lifeinthenhs.files.wordpress.com/2009/02/facebook.jpg" border="0" alt="[تصویر: facebook.jpg]" />  <br />
لندن : حالیہ برسوں کے دوران سماجی روابط کے فروغ کے لئے انٹرنیٹ ویب سائٹ فیس بک کے صارفین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے.اس سائٹ کے استعمال کنندگان اپنے مخصوص دوستوں کے لئے خاندان کے افراد کی تصاویر پوسٹ کرتے یا اپنے بارے میں نئی معلومات فراہم کرتے ہیں اور ایسا وہ یہ سمجھ کر کر رہے ہوتے ہیں کہ یہ ان کے نجی استعمال میں ہے لیکن ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل یہ ویب سائٹ مخالفین کے بارے میں مفید معلومات کے حصول اور لوگوں کے ذہنوں تک رسائی کے لئے استعمال کر رہا ہے. فرانس سے شائع ہونے والے ''اسرائیل میگزین'' نامی جریدے نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس زیادہ ترعرب اور مسلمان صارفین پر اپنی توجہ مرکوز کرتی ہے اور وہ ان کے فیس بک کے صفحات کو ان کی سرگرمیوں اور سوچ وفکر کے تجزیے کے لئے استعمال کر رہی ہے. میگزین کی اس رپورٹ پر اسرائیلی حکومت اور سفارتی حلقوں نے اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور پیرس میں متعین اسرائیلی سفیر نے میگزین پر دشمن کو کلاسفائیڈ معلومات فراہم کرنے کاالزام عاید کیا ہے. فرانس کی ایک یونیورسٹی میں نفسیات کے پروفیسر جیرارڈ نیروکس نے بتایا ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے اسرائیل کی خفیہ سرگرمیوں کا انکشاف مئی 2001ء میں ہوا تھا.<br />
نیروکس ''انٹرنیٹ کے خطرات'' نامی کتاب کے مصنف ہیں.ان کا کہنا ہے کہ ''یہ اسرائیلی نفسیات دانوں پر مشتمل ایک انٹیلی جنس نیٹ ورک ہے جو عرب دنیا اور خاص طور پر فلسطینی اسرائیلی تنازعے سے متعلق ممالک اور لاطینی امریکا کے ممالک پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں''. پروفیسر نیروکس نے میگزین کو بتایا کہ''مردوں کی ایک بہت بڑی تعداد خواتین سے ملنے کے لئے اس ویب سائٹ کو استعمال کرتی ہے لیکن یہ غیر محفوظ ہے کیونکہ یہ مردوں کو دھوکا دینے کا ایک بہترین ذریعہ ہے جس سے ان کی خامیوں کا بھی پتا چلایا جا سکتا ہے''.ان کا کہنا تھا کہ کسی مرد کی جاسوسی کے لئے کسی خاتون کو استعمال کرنا تو بہت ہی آسان کام ہے. یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ اسرائیل پرعام لوگوں کی جاسوسی کے لئے فیس بک کو استعمال کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے. اپریل 2008ء میں اردن کے ایک روزنامے الحقیقہ الدولیہ میں ''پوشیدہ دشمن'' کے عنوان سے شائع شدہ ایک مضمون میں بھی اس سے ملتے جلتے دعوے کئے گئے تھے. اخبار نے لکھا تھا کہ یہ بہت ہی خطرناک رجحان ہے کہ لوگ خاص طور پر نوجوان کسی دوسرے کی باتوں پراعتماد کرتے ہوئے فیس بک یا اسی طرح کی سماجی روابط کی ویب سائٹس پر اپنی جملہ ذاتی تفصیلات کا اظہار کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ان عناصر کا بآسانی ہدف بن جاتے ہیں جو اس طرح کے لوگوں کی تلاش میں ہوتے ہیں''. فیس بک کا نام عالمی سیاست میں بھی کوئی اجنبی نہیں ہے اور اسے مختلف ممالک کے اپوزیشن گروپ اپنی مہم کو آگے بڑھانے کے لئے استعمال کرتے ہیں.ایران میں صدارتی انتخابات کے بعد بدامنی کے دوران بھی اپوزیشن گروپوں نے اس سائٹ کو مظاہروں کو منظم کرنے کے لئے استعمال کیا تھا. ''اسرائیل میگزین'' کی رپورٹ کے مطابق فیس بک سے صہیونی ریاست کے دشمن ممالک میں رونما ہونے والے سیاسی واقعات کے بارے میں صہیونی انٹیلی جنس کو مفید معلومات فراہم ہوتی ہیں جنہیں وہ اپنی مستقبل کی منصوبہ بندی کے لئے استعمال کرتے ہیں اور اس کی روشنی ہی میں صہیونی دوسروں کے بارے میں اپنے فیصلے کرتے ہیں</div></span></span>]]></content:encoded>
		</item>
		<item>
			<title><![CDATA[دس بڑے سائنسی مغالطے]]></title>
			<link>http://urducomputing.com/thread-3037.html</link>
			<pubDate>Thu, 18 Mar 2010 11:22:33 -0600</pubDate>
			<dc:creator>مغل شہزادہ</dc:creator>
			<guid isPermaLink="false">http://urducomputing.com/thread-3037.html</guid>
			<description><![CDATA[دس بڑے سائنسی مغالطے<br />
<br />
<br />
<br />
<div style="text-align: center;"><span style="font-size: 19pt;"><span style="color: #3600ff;">۔خلا میں کششِ ثقل نہیں ہوتی</span><br />
<br />
شاید اس مغالطے کی ایک وجہ یہ ہے کہ خلاسے متعلق خبروں میں اکثر ’زیرو گریوٹی‘کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔زیرو گریوٹی کی اصطلاح ہی غلط ہے کیوں کہ کششِ ثقل یا گریوٹی ہرجگہ ہے۔ خلاباز بے وزنی کی کیفیت سے اس لیے دوچار ہوتے ہیں کہ وہ مسلسل زمین کی طرف گرتے رہتے ہیں۔ اسے سائنسی زبان میں ’فری فال‘کہا جاتاہے۔ کششِ ثقل کااثر زمین یا دوسرے خلائی اجسام سے دوری پر کم ضرور پڑجاتا ہے، مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔<br />
<br />
<span style="color: #2400ff;">2 خلاہر قسم کے ذرّات سے خالی ہوتی ہے</span><br />
<br />
حقیقت یہ ہےلفظ ’خلا‘ہی بے معنی ہے۔ وجہ یہ کہ ’خلا ‘ بالکل خالی نہیں ہوتی بلکہ اس میں ہر قسم کے ایٹم اور مالیکیول پائے جاتے ہیں۔ یہ الگ بات کہ ان ذرات کا آپسی فاصلہ اتنا نہیں ہوتا جتنا زمین پر۔ <br />
<br />
<span style="color: #0000ff;">3 دلدل میں انسان اور جانور دھنس کر ڈوب جاتے ہیں</span><br />
<br />
آپ نے بہت سی فلموں میں انسانوں اور جانوروں کو دلدلوں میں دھنستے اور ڈوبتے دیکھاہوگا۔ تاہم فرانسیسی سائنس دانوں کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دلدل میں انسان زیادہ سےزیادہ کمر تک دھنس سکتاہے۔<br />
<br />
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دلدل میں دھنس کر ڈوب مرنے کی صرف ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ انسان سرکے بل دلدل میں گرے۔<br />
<br />
<span style="color: #1200ff;">۔4 انسان اپنے دماغ کا صرف دس فیصد استعمال کرتاہے</span><br />
<br />
یہ مغالطہ ایک سوبرس سے چلا آرہاہے۔بعض اوقات تویہ فی صدمقدار گھٹا کر دو یا پانچ کر دی جاتی ہے۔ تاہم خوش قسمتی سے یہ بات درست نہیں ہے۔ جدید ایم آر آئی کی تصویروں سے معلوم ہوتاہے کہ انسان اپنے دماغ کا بیشتر حصہ ہر وقت استعمال کررہا ہوتاہے۔ حتیٰ کہ سوتے میں بھی دماغ کا اکثر حصہ مصروف رہتا ہے۔<br />
<br />
<span style="color: #1200ff;">5 آسمانی بجلی ایک ہی جگہ پر دوبار نہیں گرتی</span><br />
<br />
<br />
حقیقیت یہ ہے کہ آسمانی بجلی بلندی پر واقع مقامات پر زیادہ آسانی سے گرتی ہے۔ مثال کے طور پر نیویارک میں واقع ایمپائر سٹیٹ بلڈنگ پر، جو ایک زمانے میں دنیا کی بلند ترین عمارت تھی، ہر سال 25بار بجلی گرتی ہے۔<br />
<br />
<br />
امریکی دانش ور اور سیاست دان بنجمن فرینکلن نے اس بات کا بہت پہلے ہی ادراک کرلیاتھا اور آسمانی بجلی سے بچنے کا آلہ ایجاد کرکے اپنے گھر کی چھت پر نصب کردیاتھا۔<br />
<br />
<span style="color: #0000ff;">6 بال اور ناخن مرنے کے بعد بھی بڑھتے رہتے ہیں</span><br />
<br />
<br />
لاطینی امریکہ کے مشہور مصنف گیبریئیل گارشیا مارکیز نے اپنے ایک ناول میں منظر پیش کیا ہے کہ ایک خاتون کی قبر جب کھودی گئی تو اس کے سنہرے بال بڑھتے بڑھتے 22فٹ لمبے ہوچکے تھے۔<br />
<br />
<br />
<br />
اصل بات یہ ہے کہ مرنے کے بعد جلد میں پانی سوکھ جاتاہے جس سے جلد دھنس جاتی ہے،اور بال اور ناخن تھوڑے سےباہر نکل آتے ہیں۔ اس بصری دھوکے کی وجہ سے ایسامعلوم ہوتا ہے جیسے ان کی لمبائی میں اضافہ ہوگیاہے۔<br />
<br />
<br />
<br />
<span style="color: #1200ff;">7 جانوروں کی چھٹی حس انہیں قدرتی آفات سے خبردارکردیتی ہے</span><br />
<br />
<br />
<br />
جانوروں میں ایسی کوئی پراسرار حس نہیں ہوتی جو انسانوں میں نہ ہو۔بات فقط اتنی ہےکہ جب کوئی قدرتی آفت آنے لگتی ہے تو جانوراپنی سننے اور سونگھنے کی تیز حسوں کا استعمال کرکے خطرے سے خبردار ہوجاتے ہیں۔<br />
<br />
<br />
<br />
<span style="color: #0000ff;">8 گرمی اور سردی کے موسم زمین کے سورج سے فاصلے کی بنا پر پیداہوتے ہیں</span><br />
<br />
<br />
<br />
حقیقت یہ ہے کہ زمین سے سورج کے فاصلے کا موسموں یا زمین پر درجہ ٴ حرارت پر بہت کم اثر پڑتاہے۔ جس چیز کا اثر پڑتا ہے وہ سورج کی کرنوں کا وہ زاویہ ہے جس سے وہ زمین پر ٹکراتی ہیں۔ گرمیوں کے موسم میں شمالی نصف کرے پر کرنیں سیدھی پڑتی ہیں جس سے درجہٴ حرارت بڑھ جاتاہے۔ جب کہ سردیوں میں کرنیں ترچھی پڑتی ہیں، جن کابڑا حصہ زمین کی سطح تک نہیں پہنچ پاتا۔<br />
<br />
<br />
<span style="color: #0012ff;">9 دیوارِ چین وہ واحد انسانی تعمیر ہے جو چاندسےنظر آتی ہے</span><br />
<br />
<br />
یہ بات جتنی مشہور ہے، اتنی ہی غلط بھی ہے۔چاند سے انسان کی بنائی ہوئی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ <br />
<br />
<br />
البتہ یہ ضرور ہے کہ خلاباز خلا سے دیوارِ چین کو دیکھ سکتے ہیں، تاہم اس کے علاوہ بھی کئی انسانی تعمیرات خلا سے نظر آتی ہیں، جیسے اہرامِ مصراور ہوائی اڈوں کے رن وے وغیرہ۔ <br />
<br />
<span style="color: #0900ff;">10 انسانی دماغ کی نشوونما جوانی میں رک جاتی ہے</span><br />
<br />
یہ درست ہے کہ دماغ کی نشوونما بڑی حد تک بچپن ہی میں مکمل ہوجاتی ہے، تاہم جدید تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ نئے دماغی خلیے بڑی عمر میں بھی پیداہوتے اور بڑھتے رہتے ہیں۔</span></div>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[دس بڑے سائنسی مغالطے<br />
<br />
<br />
<br />
<div style="text-align: center;"><span style="font-size: 19pt;"><span style="color: #3600ff;">۔خلا میں کششِ ثقل نہیں ہوتی</span><br />
<br />
شاید اس مغالطے کی ایک وجہ یہ ہے کہ خلاسے متعلق خبروں میں اکثر ’زیرو گریوٹی‘کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔زیرو گریوٹی کی اصطلاح ہی غلط ہے کیوں کہ کششِ ثقل یا گریوٹی ہرجگہ ہے۔ خلاباز بے وزنی کی کیفیت سے اس لیے دوچار ہوتے ہیں کہ وہ مسلسل زمین کی طرف گرتے رہتے ہیں۔ اسے سائنسی زبان میں ’فری فال‘کہا جاتاہے۔ کششِ ثقل کااثر زمین یا دوسرے خلائی اجسام سے دوری پر کم ضرور پڑجاتا ہے، مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔<br />
<br />
<span style="color: #2400ff;">2 خلاہر قسم کے ذرّات سے خالی ہوتی ہے</span><br />
<br />
حقیقت یہ ہےلفظ ’خلا‘ہی بے معنی ہے۔ وجہ یہ کہ ’خلا ‘ بالکل خالی نہیں ہوتی بلکہ اس میں ہر قسم کے ایٹم اور مالیکیول پائے جاتے ہیں۔ یہ الگ بات کہ ان ذرات کا آپسی فاصلہ اتنا نہیں ہوتا جتنا زمین پر۔ <br />
<br />
<span style="color: #0000ff;">3 دلدل میں انسان اور جانور دھنس کر ڈوب جاتے ہیں</span><br />
<br />
آپ نے بہت سی فلموں میں انسانوں اور جانوروں کو دلدلوں میں دھنستے اور ڈوبتے دیکھاہوگا۔ تاہم فرانسیسی سائنس دانوں کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دلدل میں انسان زیادہ سےزیادہ کمر تک دھنس سکتاہے۔<br />
<br />
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دلدل میں دھنس کر ڈوب مرنے کی صرف ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ انسان سرکے بل دلدل میں گرے۔<br />
<br />
<span style="color: #1200ff;">۔4 انسان اپنے دماغ کا صرف دس فیصد استعمال کرتاہے</span><br />
<br />
یہ مغالطہ ایک سوبرس سے چلا آرہاہے۔بعض اوقات تویہ فی صدمقدار گھٹا کر دو یا پانچ کر دی جاتی ہے۔ تاہم خوش قسمتی سے یہ بات درست نہیں ہے۔ جدید ایم آر آئی کی تصویروں سے معلوم ہوتاہے کہ انسان اپنے دماغ کا بیشتر حصہ ہر وقت استعمال کررہا ہوتاہے۔ حتیٰ کہ سوتے میں بھی دماغ کا اکثر حصہ مصروف رہتا ہے۔<br />
<br />
<span style="color: #1200ff;">5 آسمانی بجلی ایک ہی جگہ پر دوبار نہیں گرتی</span><br />
<br />
<br />
حقیقیت یہ ہے کہ آسمانی بجلی بلندی پر واقع مقامات پر زیادہ آسانی سے گرتی ہے۔ مثال کے طور پر نیویارک میں واقع ایمپائر سٹیٹ بلڈنگ پر، جو ایک زمانے میں دنیا کی بلند ترین عمارت تھی، ہر سال 25بار بجلی گرتی ہے۔<br />
<br />
<br />
امریکی دانش ور اور سیاست دان بنجمن فرینکلن نے اس بات کا بہت پہلے ہی ادراک کرلیاتھا اور آسمانی بجلی سے بچنے کا آلہ ایجاد کرکے اپنے گھر کی چھت پر نصب کردیاتھا۔<br />
<br />
<span style="color: #0000ff;">6 بال اور ناخن مرنے کے بعد بھی بڑھتے رہتے ہیں</span><br />
<br />
<br />
لاطینی امریکہ کے مشہور مصنف گیبریئیل گارشیا مارکیز نے اپنے ایک ناول میں منظر پیش کیا ہے کہ ایک خاتون کی قبر جب کھودی گئی تو اس کے سنہرے بال بڑھتے بڑھتے 22فٹ لمبے ہوچکے تھے۔<br />
<br />
<br />
<br />
اصل بات یہ ہے کہ مرنے کے بعد جلد میں پانی سوکھ جاتاہے جس سے جلد دھنس جاتی ہے،اور بال اور ناخن تھوڑے سےباہر نکل آتے ہیں۔ اس بصری دھوکے کی وجہ سے ایسامعلوم ہوتا ہے جیسے ان کی لمبائی میں اضافہ ہوگیاہے۔<br />
<br />
<br />
<br />
<span style="color: #1200ff;">7 جانوروں کی چھٹی حس انہیں قدرتی آفات سے خبردارکردیتی ہے</span><br />
<br />
<br />
<br />
جانوروں میں ایسی کوئی پراسرار حس نہیں ہوتی جو انسانوں میں نہ ہو۔بات فقط اتنی ہےکہ جب کوئی قدرتی آفت آنے لگتی ہے تو جانوراپنی سننے اور سونگھنے کی تیز حسوں کا استعمال کرکے خطرے سے خبردار ہوجاتے ہیں۔<br />
<br />
<br />
<br />
<span style="color: #0000ff;">8 گرمی اور سردی کے موسم زمین کے سورج سے فاصلے کی بنا پر پیداہوتے ہیں</span><br />
<br />
<br />
<br />
حقیقت یہ ہے کہ زمین سے سورج کے فاصلے کا موسموں یا زمین پر درجہ ٴ حرارت پر بہت کم اثر پڑتاہے۔ جس چیز کا اثر پڑتا ہے وہ سورج کی کرنوں کا وہ زاویہ ہے جس سے وہ زمین پر ٹکراتی ہیں۔ گرمیوں کے موسم میں شمالی نصف کرے پر کرنیں سیدھی پڑتی ہیں جس سے درجہٴ حرارت بڑھ جاتاہے۔ جب کہ سردیوں میں کرنیں ترچھی پڑتی ہیں، جن کابڑا حصہ زمین کی سطح تک نہیں پہنچ پاتا۔<br />
<br />
<br />
<span style="color: #0012ff;">9 دیوارِ چین وہ واحد انسانی تعمیر ہے جو چاندسےنظر آتی ہے</span><br />
<br />
<br />
یہ بات جتنی مشہور ہے، اتنی ہی غلط بھی ہے۔چاند سے انسان کی بنائی ہوئی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ <br />
<br />
<br />
البتہ یہ ضرور ہے کہ خلاباز خلا سے دیوارِ چین کو دیکھ سکتے ہیں، تاہم اس کے علاوہ بھی کئی انسانی تعمیرات خلا سے نظر آتی ہیں، جیسے اہرامِ مصراور ہوائی اڈوں کے رن وے وغیرہ۔ <br />
<br />
<span style="color: #0900ff;">10 انسانی دماغ کی نشوونما جوانی میں رک جاتی ہے</span><br />
<br />
یہ درست ہے کہ دماغ کی نشوونما بڑی حد تک بچپن ہی میں مکمل ہوجاتی ہے، تاہم جدید تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ نئے دماغی خلیے بڑی عمر میں بھی پیداہوتے اور بڑھتے رہتے ہیں۔</span></div>]]></content:encoded>
		</item>
		<item>
			<title><![CDATA[اســلامـى¨°o.O ( ..^mms^.. ) O.o°¨]]></title>
			<link>http://urducomputing.com/thread-3036.html</link>
			<pubDate>Wed, 17 Mar 2010 09:11:10 -0600</pubDate>
			<dc:creator>أضواء الشرقية</dc:creator>
			<guid isPermaLink="false">http://urducomputing.com/thread-3036.html</guid>
			<description><![CDATA[<div style="text-align: center;"><span style="color: #FF0000;">اســلامـى¨°o.O ( ..^mms^.. ) O.o°¨</span><br />
<br />
بسم الله الرحمن الرحيم<br />
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته<br />
<br />
<span style="color: #0000CD;"> mmsأشرف الكتب أجمعين كتاب الله تعالى..</span><br />
<br />
<br />
<img src="http://hadaeeq.nqeia.com/vb303/uploaded/11002_1266098792.gif" border="0" alt="[تصویر: 11002_1266098792.gif&#93;" /><br />
<br />
<br />
<img src="http://hadaeeq.nqeia.com/vb303/uploaded/11002_1266099199.gif" border="0" alt="[تصویر: 11002_1266099199.gif&#93;" /><br />
<br />
<img src="http://hadaeeq.nqeia.com/vb303/uploaded/11002_1266101174.gif" border="0" alt="[تصویر: 11002_1266101174.gif&#93;" /><br />
<br />
<br />
<br />
<img src="http://hadaeeq.nqeia.com/vb303/uploaded/11002_1262223917.gif" border="0" alt="[تصویر: 11002_1262223917.gif&#93;" /><br />
<br />
<br />
<br />
<img src="http://hadaeeq.nqeia.com/vb303/uploaded/11002_1262223968.gif" border="0" alt="[تصویر: 11002_1262223968.gif&#93;" /><br />
<br />
<br />
<img src="http://hadaeeq.nqeia.com/vb303/uploaded/11002_1262224035.gif" border="0" alt="[تصویر: 11002_1262224035.gif&#93;" /><br />
<br />
<br />
<img src="http://hadaeeq.nqeia.com/vb303/uploaded/11002_1262224091.gif" border="0" alt="[تصویر: 11002_1262224091.gif&#93;" /><br />
<br />
<img src="http://hadaeeq.nqeia.com/vb303/uploaded/11002_1262224158.gif" border="0" alt="[تصویر: 11002_1262224158.gif&#93;" /><br />
<br />
<br />
<img src="http://hadaeeq.nqeia.com/vb303/uploaded/11002_1262224383.gif" border="0" alt="[تصویر: 11002_1262224383.gif&#93;" /><br />
<br />
<br />
<br />
““““““““““““““““““““““““““ “““</div>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div style="text-align: center;"><span style="color: #FF0000;">اســلامـى¨°o.O ( ..^mms^.. ) O.o°¨</span><br />
<br />
بسم الله الرحمن الرحيم<br />
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته<br />
<br />
<span style="color: #0000CD;"> mmsأشرف الكتب أجمعين كتاب الله تعالى..</span><br />
<br />
<br />
<img src="http://hadaeeq.nqeia.com/vb303/uploaded/11002_1266098792.gif" border="0" alt="[تصویر: 11002_1266098792.gif]" /><br />
<br />
<br />
<img src="http://hadaeeq.nqeia.com/vb303/uploaded/11002_1266099199.gif" border="0" alt="[تصویر: 11002_1266099199.gif]" /><br />
<br />
<img src="http://hadaeeq.nqeia.com/vb303/uploaded/11002_1266101174.gif" border="0" alt="[تصویر: 11002_1266101174.gif]" /><br />
<br />
<br />
<br />
<img src="http://hadaeeq.nqeia.com/vb303/uploaded/11002_1262223917.gif" border="0" alt="[تصویر: 11002_1262223917.gif]" /><br />
<br />
<br />
<br />
<img src="http://hadaeeq.nqeia.com/vb303/uploaded/11002_1262223968.gif" border="0" alt="[تصویر: 11002_1262223968.gif]" /><br />
<br />
<br />
<img src="http://hadaeeq.nqeia.com/vb303/uploaded/11002_1262224035.gif" border="0" alt="[تصویر: 11002_1262224035.gif]" /><br />
<br />
<br />
<img src="http://hadaeeq.nqeia.com/vb303/uploaded/11002_1262224091.gif" border="0" alt="[تصویر: 11002_1262224091.gif]" /><br />
<br />
<img src="http://hadaeeq.nqeia.com/vb303/uploaded/11002_1262224158.gif" border="0" alt="[تصویر: 11002_1262224158.gif]" /><br />
<br />
<br />
<img src="http://hadaeeq.nqeia.com/vb303/uploaded/11002_1262224383.gif" border="0" alt="[تصویر: 11002_1262224383.gif]" /><br />
<br />
<br />
<br />
““““““““““““““““““““““““““ “““</div>]]></content:encoded>
		</item>
		<item>
			<title><![CDATA[اردو ویڈیو ٹرینینگ]]></title>
			<link>http://urducomputing.com/thread-3035.html</link>
			<pubDate>Wed, 17 Mar 2010 05:57:58 -0600</pubDate>
			<dc:creator>تنزیل نیازی</dc:creator>
			<guid isPermaLink="false">http://urducomputing.com/thread-3035.html</guid>
			<description><![CDATA[<span style="font-size: x-large;">اگر آپ اردو زبان میں ونڈوز کی انسٹالیشن، کمپیوٹر کا بیک اپ، پاسورڈز کو ریکور کرنا چاہتے ہیں تو آج ہی وزٹ کریں، <a href="http://webkno.com" target="_blank">ویب نو.کام</a></span>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<span style="font-size: x-large;">اگر آپ اردو زبان میں ونڈوز کی انسٹالیشن، کمپیوٹر کا بیک اپ، پاسورڈز کو ریکور کرنا چاہتے ہیں تو آج ہی وزٹ کریں، <a href="http://webkno.com" target="_blank">ویب نو.کام</a></span>]]></content:encoded>
		</item>
		<item>
			<title><![CDATA[کبھی وقت ملے تو آجاو]]></title>
			<link>http://urducomputing.com/thread-3034.html</link>
			<pubDate>Wed, 17 Mar 2010 04:15:27 -0600</pubDate>
			<dc:creator>مغل شہزادہ</dc:creator>
			<guid isPermaLink="false">http://urducomputing.com/thread-3034.html</guid>
			<description><![CDATA[<div style="text-align: center;"><span style="color: #0900ff;"><span style="font-size: 19pt;">کبھی وقت ملے تو آجاو<br />
ہم جھیل کنارے جا بیٹھیں<br />
<br />
تم اپنے سُکھ کی بات کرو<br />
ہم اپنے دکھ کی بات کریں<br />
<br />
اوران لمحوں کی بات کریں<br />
جو سنگ تمہارے بیت گئے<br />
<br />
ہم شہرِخراباں کے باسی<br />
تم چاندستاروں کی ملکہ<br />
<br />
کبھی وقت ملے توآجاو<br />
ہم جھیل کنارےجابیٹھیں<br />
<br />
ان سبزرتوں کے دامن میں<br />
ہم پیار کی خوشبومہکائیں<br />
<br />
ان بکھرےمست نظاروں کو<br />
ہم آنکھوں میں تصویر کریں<br />
<br />
پتھر پہ گرتے پانی کو<br />
ہم خوابوں سے تعبیرکریں<br />
<br />
اُس وقت کےڈوبتےسورج کو<br />
ہم چاہت کی جاگیر کریں<br />
<br />
پھراپنے پیار کےجادو سے<br />
ان لمحوں کو زنجیر کریں<br />
<br />
کبھی وقت ملے تو آجاو<br />
ہم جھیل کنارے جابیٹھیں</span></span></div>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div style="text-align: center;"><span style="color: #0900ff;"><span style="font-size: 19pt;">کبھی وقت ملے تو آجاو<br />
ہم جھیل کنارے جا بیٹھیں<br />
<br />
تم اپنے سُکھ کی بات کرو<br />
ہم اپنے دکھ کی بات کریں<br />
<br />
اوران لمحوں کی بات کریں<br />
جو سنگ تمہارے بیت گئے<br />
<br />
ہم شہرِخراباں کے باسی<br />
تم چاندستاروں کی ملکہ<br />
<br />
کبھی وقت ملے توآجاو<br />
ہم جھیل کنارےجابیٹھیں<br />
<br />
ان سبزرتوں کے دامن میں<br />
ہم پیار کی خوشبومہکائیں<br />
<br />
ان بکھرےمست نظاروں کو<br />
ہم آنکھوں میں تصویر کریں<br />
<br />
پتھر پہ گرتے پانی کو<br />
ہم خوابوں سے تعبیرکریں<br />
<br />
اُس وقت کےڈوبتےسورج کو<br />
ہم چاہت کی جاگیر کریں<br />
<br />
پھراپنے پیار کےجادو سے<br />
ان لمحوں کو زنجیر کریں<br />
<br />
کبھی وقت ملے تو آجاو<br />
ہم جھیل کنارے جابیٹھیں</span></span></div>]]></content:encoded>
		</item>
		<item>
			<title><![CDATA[میری زندگی کی بہترین سائٹ]]></title>
			<link>http://urducomputing.com/thread-3033.html</link>
			<pubDate>Tue, 16 Mar 2010 10:38:43 -0600</pubDate>
			<dc:creator>اسداللہ شاہ</dc:creator>
			<guid isPermaLink="false">http://urducomputing.com/thread-3033.html</guid>
			<description><![CDATA[<div style="text-align: center;"><span style="color: #006400;"><span style="font-size: x-large;"><a href="http://www.quranflash.com/en/quranflash.html" target="_blank">قرآن پاک</a></span></span></div>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div style="text-align: center;"><span style="color: #006400;"><span style="font-size: x-large;"><a href="http://www.quranflash.com/en/quranflash.html" target="_blank">قرآن پاک</a></span></span></div>]]></content:encoded>
		</item>
		<item>
			<title><![CDATA[کتابوں کی تلاش!!! آپ کو کون سی کتاب نہیں مل رہی؟]]></title>
			<link>http://urducomputing.com/thread-3032.html</link>
			<pubDate>Tue, 16 Mar 2010 07:36:14 -0600</pubDate>
			<dc:creator>مغل شہزادہ</dc:creator>
			<guid isPermaLink="false">http://urducomputing.com/thread-3032.html</guid>
			<description><![CDATA[<div style="text-align: center;"><span style="color: #2d00ff;"><span style="font-size: 19pt;"><br />
کتابوں کی تلاش!!! آپ کو کون سی کتاب نہیں مل رہی؟<br />
<br />
السلام علیکم <br />
اس موضوع میں کسی دوست کو کوئی کتاب، رسالہ، ڈائجسٹ، ناول، درکار ہو تو وہ  درخواست کر سکتا ہے ۔ باقی ممبر اسے تلاش کر کے یہاں لنک پیش کریں گے ۔۔۔۔ اور جس جس کے پاس اچھی کتابوں کے لنک ہیں یہاں پیش کر سکتا ہے تاکہ دوستوں میں مطالعے کا رجحان بڑھے۔۔۔۔والسلام علیکم</span></span></div>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div style="text-align: center;"><span style="color: #2d00ff;"><span style="font-size: 19pt;"><br />
کتابوں کی تلاش!!! آپ کو کون سی کتاب نہیں مل رہی؟<br />
<br />
السلام علیکم <br />
اس موضوع میں کسی دوست کو کوئی کتاب، رسالہ، ڈائجسٹ، ناول، درکار ہو تو وہ  درخواست کر سکتا ہے ۔ باقی ممبر اسے تلاش کر کے یہاں لنک پیش کریں گے ۔۔۔۔ اور جس جس کے پاس اچھی کتابوں کے لنک ہیں یہاں پیش کر سکتا ہے تاکہ دوستوں میں مطالعے کا رجحان بڑھے۔۔۔۔والسلام علیکم</span></span></div>]]></content:encoded>
		</item>
		<item>
			<title><![CDATA[انکار نہ اقرار بڑی دیر سے چُپ ہیں]]></title>
			<link>http://urducomputing.com/thread-3031.html</link>
			<pubDate>Tue, 16 Mar 2010 00:06:08 -0600</pubDate>
			<dc:creator>کامران خان</dc:creator>
			<guid isPermaLink="false">http://urducomputing.com/thread-3031.html</guid>
			<description><![CDATA[<div style="text-align: center;">
انکار نہ اقرار بڑی دیر سے چُپ ہیں<br />
کیا بات ہے سرکار بڑی دیر سے چُپ ہیں<br />
آساں نہ کر دی ہو کہیں موت نے مشکل<br />
روتے ہوئے بیمار بڑی دیر سے چُپ ہیں<br />
اب کوئی اشارہ ہے، نہ پیغام، نہ آہٹ<br />
بام و در و دیوار بڑی دیر سے چُپ ہیں<br />
ساقی یہ خموشی بھی تو کچھ غور طلب ہے<br />
ساقی تیرے میخوار بڑی دیر سے چُپ ہیں<br />
اس شہر میں ہر جنس بنی یوسف کنعاں<br />
بازار کے بازار بڑی دیر سے چُپ ہیں۔۔۔۔<br />
احمد فراز</div>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div style="text-align: center;">
انکار نہ اقرار بڑی دیر سے چُپ ہیں<br />
کیا بات ہے سرکار بڑی دیر سے چُپ ہیں<br />
آساں نہ کر دی ہو کہیں موت نے مشکل<br />
روتے ہوئے بیمار بڑی دیر سے چُپ ہیں<br />
اب کوئی اشارہ ہے، نہ پیغام، نہ آہٹ<br />
بام و در و دیوار بڑی دیر سے چُپ ہیں<br />
ساقی یہ خموشی بھی تو کچھ غور طلب ہے<br />
ساقی تیرے میخوار بڑی دیر سے چُپ ہیں<br />
اس شہر میں ہر جنس بنی یوسف کنعاں<br />
بازار کے بازار بڑی دیر سے چُپ ہیں۔۔۔۔<br />
احمد فراز</div>]]></content:encoded>
		</item>
		<item>
			<title><![CDATA[تو میں اس کے لئے اپنی اچھی عادت کیوں چھوڑوں؟؟؟]]></title>
			<link>http://urducomputing.com/thread-3030.html</link>
			<pubDate>Mon, 15 Mar 2010 23:45:11 -0600</pubDate>
			<dc:creator>کامران خان</dc:creator>
			<guid isPermaLink="false">http://urducomputing.com/thread-3030.html</guid>
			<description><![CDATA[<span style="font-weight: bold;"><div style="text-align: center;">اسلام علیکم<br />
<br />
<br />
دوستو ایک شخص تھا جس کی عادت تھی کے وو راستے میں ملنے والے ہر شخص کو سلام کرتا تھا<br />
<br />
<br />
پر ایک اور شخص اس کے سلام کا جواب دینے کے بغیر اسے گالیاں دیتا تھا<br />
<br />
<br />
<br />
پھر بھی وو نیک انسان اسے ہر روز سلام کرتا تھا<br />
<br />
<br />
<br />
اک دن کسی نے اس سے پوچھا کے وو ہر روز تمہیں برا بھلا کہتا ہے اور پھر بھی تم اسے سلام کرتے ہو ؟؟؟<br />
<br />
<br />
<br />
اس نیک انسان نے جواب دیا<br />
<br />
<br />
جب وو میرے لئے اپنی بری عادت نہیں چھوڑ سکتا تو میں اس کے لئے اپنی اچھی عادت کیوں چھوڑوں</div></span>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<span style="font-weight: bold;"><div style="text-align: center;">اسلام علیکم<br />
<br />
<br />
دوستو ایک شخص تھا جس کی عادت تھی کے وو راستے میں ملنے والے ہر شخص کو سلام کرتا تھا<br />
<br />
<br />
پر ایک اور شخص اس کے سلام کا جواب دینے کے بغیر اسے گالیاں دیتا تھا<br />
<br />
<br />
<br />
پھر بھی وو نیک انسان اسے ہر روز سلام کرتا تھا<br />
<br />
<br />
<br />
اک دن کسی نے اس سے پوچھا کے وو ہر روز تمہیں برا بھلا کہتا ہے اور پھر بھی تم اسے سلام کرتے ہو ؟؟؟<br />
<br />
<br />
<br />
اس نیک انسان نے جواب دیا<br />
<br />
<br />
جب وو میرے لئے اپنی بری عادت نہیں چھوڑ سکتا تو میں اس کے لئے اپنی اچھی عادت کیوں چھوڑوں</div></span>]]></content:encoded>
		</item>
		<item>
			<title><![CDATA[مرزا غلام احمد قادیانی دنیا کا سب سے بڑا بدبخت انسان]]></title>
			<link>http://urducomputing.com/thread-3029.html</link>
			<pubDate>Mon, 15 Mar 2010 23:33:58 -0600</pubDate>
			<dc:creator>کامران خان</dc:creator>
			<guid isPermaLink="false">http://urducomputing.com/thread-3029.html</guid>
			<description><![CDATA[<div style="text-align: center;"><img src="http://sunmag.nawaiwaqt.com.pk/07-03-2010/img/p13.gif" border="0" alt="[تصویر: p13.gif&#93;" /></div>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div style="text-align: center;"><img src="http://sunmag.nawaiwaqt.com.pk/07-03-2010/img/p13.gif" border="0" alt="[تصویر: p13.gif]" /></div>]]></content:encoded>
		</item>
		<item>
			<title><![CDATA[میرا مالک جب توفیق ارزانی کرتا ہے]]></title>
			<link>http://urducomputing.com/thread-3028.html</link>
			<pubDate>Sun, 14 Mar 2010 23:50:18 -0600</pubDate>
			<dc:creator>کامران خان</dc:creator>
			<guid isPermaLink="false">http://urducomputing.com/thread-3028.html</guid>
			<description><![CDATA[<div style="text-align: center;"><span style="font-weight: bold;">میرا مالک جب توفیق ارزانی کرتا ہے<br />
گہرے زرد زمیں کی رنگت دھانی کرتا ہے<br />
<br />
بجھتے ہوئے دیئے کی لو اور بھیگی آنکھ کے بیچ<br />
کوئی تو ہے جو خوابوں کی نگرانی کرتا ہے<br />
<br />
مالک سے اور مٹی سے اور ماں سے باغی شخص<br />
درد کے ہر میثاق سے روگردانی کرتا ہے<br />
<br />
یادوں سے اور خوابوں سے اور امیدوں سے ربط<br />
ہو جائے تو جینے میں آسانی کرتا ہے<br />
<br />
کیا جانے کب کس ساعت میں طبع رواں ہو جائے<br />
یہ دریا بھی بے موسم طغیانی کرتا ہے<br />
<br />
دل پاگل ہے روز نئی نادانی کرتا ہے<br />
آگ میں آگ ملاتا ہے پھر پانی کرتا ہے</span></div>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div style="text-align: center;"><span style="font-weight: bold;">میرا مالک جب توفیق ارزانی کرتا ہے<br />
گہرے زرد زمیں کی رنگت دھانی کرتا ہے<br />
<br />
بجھتے ہوئے دیئے کی لو اور بھیگی آنکھ کے بیچ<br />
کوئی تو ہے جو خوابوں کی نگرانی کرتا ہے<br />
<br />
مالک سے اور مٹی سے اور ماں سے باغی شخص<br />
درد کے ہر میثاق سے روگردانی کرتا ہے<br />
<br />
یادوں سے اور خوابوں سے اور امیدوں سے ربط<br />
ہو جائے تو جینے میں آسانی کرتا ہے<br />
<br />
کیا جانے کب کس ساعت میں طبع رواں ہو جائے<br />
یہ دریا بھی بے موسم طغیانی کرتا ہے<br />
<br />
دل پاگل ہے روز نئی نادانی کرتا ہے<br />
آگ میں آگ ملاتا ہے پھر پانی کرتا ہے</span></div>]]></content:encoded>
		</item>
		<item>
			<title><![CDATA[سیلِ جنوں ساحل کی جانب آتا ہے]]></title>
			<link>http://urducomputing.com/thread-3027.html</link>
			<pubDate>Sun, 14 Mar 2010 23:48:39 -0600</pubDate>
			<dc:creator>کامران خان</dc:creator>
			<guid isPermaLink="false">http://urducomputing.com/thread-3027.html</guid>
			<description><![CDATA[<div style="text-align: center;">
سیلِ جنوں ساحل کی جانب آتا ہے<br />
خواب شبِ تاریک پہ غالب آتا ہے<br />
<br />
ذرہ ہوں منسوب ہوا ہوں مہر کے ساتھ<br />
روشن رہنا مجھ پر واجب آتا ہے<br />
<br />
دل کی تباہی کے چھوٹے سے قصے میں<br />
ذکر ہزار اطراف و جوانب آتا ہے<br />
<br />
مٹی پانی آگ ہوا سب اس کے رفیق<br />
جس کو اصولِ فرقِ مراتب آتا ہے<br />
<br />
دل روئے اور گریے کی توفیق نہ ہو<br />
ایسا وقت بھی عارفؔ صاحب آتا ہے</div>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div style="text-align: center;">
سیلِ جنوں ساحل کی جانب آتا ہے<br />
خواب شبِ تاریک پہ غالب آتا ہے<br />
<br />
ذرہ ہوں منسوب ہوا ہوں مہر کے ساتھ<br />
روشن رہنا مجھ پر واجب آتا ہے<br />
<br />
دل کی تباہی کے چھوٹے سے قصے میں<br />
ذکر ہزار اطراف و جوانب آتا ہے<br />
<br />
مٹی پانی آگ ہوا سب اس کے رفیق<br />
جس کو اصولِ فرقِ مراتب آتا ہے<br />
<br />
دل روئے اور گریے کی توفیق نہ ہو<br />
ایسا وقت بھی عارفؔ صاحب آتا ہے</div>]]></content:encoded>
		</item>
		<item>
			<title><![CDATA[مری مٹی سے مرے خوابوں کے رشتے محکم کرنے کے لئے]]></title>
			<link>http://urducomputing.com/thread-3026.html</link>
			<pubDate>Sun, 14 Mar 2010 23:47:35 -0600</pubDate>
			<dc:creator>کامران خان</dc:creator>
			<guid isPermaLink="false">http://urducomputing.com/thread-3026.html</guid>
			<description><![CDATA[<div style="text-align: center;">مری مٹی سے مرے خوابوں کے رشتے محکم کرنے کے لئے<br />
اک درد مسلسل جاگتا ہے دل و جاں کو بہم کرنے کے لئے<br />
<br />
جہاں وحشت کرنا سیکھا تھا جہاں جاں سے گزرنا سیکھا تھا<br />
مرے آہو مجھے بلاتے ہیں اسی دشت میں رم کرنے کے لئے<br />
<br />
وہ جو اوّل عشق کی شدت تھی وہ تو مہر دونیم کی نذر ہوئی<br />
اب پھر اک موسم آیا ہے مجھے مستحکم کرنے کے لئے<br />
<br />
یہ سارے ادب آدابِ ہنر یوں ہی تو نہیں آ جاتے ہیں<br />
عمریں تج دینی پڑتی ہیں اک حرف رقم کرنے کے لئے<br />
<br />
موت آئی اور دل کی دہلیز پہ بوسہ دے کر لوٹ گئی<br />
مرے مہمان آئے بیٹھے تھے تازہ دم کرنے کے لئے<br />
<br />
مرے مالک مجھ کو غنی کر دے کہ شکست کے بعد مِرا دشمن<br />
مری تیغ کا طالب ہے مجھ سے مرے ہاتھ قلم کرنے کے لئے</div>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div style="text-align: center;">مری مٹی سے مرے خوابوں کے رشتے محکم کرنے کے لئے<br />
اک درد مسلسل جاگتا ہے دل و جاں کو بہم کرنے کے لئے<br />
<br />
جہاں وحشت کرنا سیکھا تھا جہاں جاں سے گزرنا سیکھا تھا<br />
مرے آہو مجھے بلاتے ہیں اسی دشت میں رم کرنے کے لئے<br />
<br />
وہ جو اوّل عشق کی شدت تھی وہ تو مہر دونیم کی نذر ہوئی<br />
اب پھر اک موسم آیا ہے مجھے مستحکم کرنے کے لئے<br />
<br />
یہ سارے ادب آدابِ ہنر یوں ہی تو نہیں آ جاتے ہیں<br />
عمریں تج دینی پڑتی ہیں اک حرف رقم کرنے کے لئے<br />
<br />
موت آئی اور دل کی دہلیز پہ بوسہ دے کر لوٹ گئی<br />
مرے مہمان آئے بیٹھے تھے تازہ دم کرنے کے لئے<br />
<br />
مرے مالک مجھ کو غنی کر دے کہ شکست کے بعد مِرا دشمن<br />
مری تیغ کا طالب ہے مجھ سے مرے ہاتھ قلم کرنے کے لئے</div>]]></content:encoded>
		</item>
		<item>
			<title><![CDATA[پس گرد جادہء درد نور کا قافلہ بھی تو دیکھتے]]></title>
			<link>http://urducomputing.com/thread-3025.html</link>
			<pubDate>Sun, 14 Mar 2010 23:45:57 -0600</pubDate>
			<dc:creator>کامران خان</dc:creator>
			<guid isPermaLink="false">http://urducomputing.com/thread-3025.html</guid>
			<description><![CDATA[<div style="text-align: center;">پس گرد جادہء درد نور کا قافلہ بھی تو دیکھتے<br />
جو دلوں سے ہو کے گزر رہا ہے وہ راستہ بھی تو دیکھتے<br />
<br />
یہ دھواں جو ہے یہ کہاں کا ہے وہ جو آگ تھی وہ کہاں کی تھی<br />
کبھی راویانِ خبر زدہ پسِ واقعہ بھی تو دیکھتے<br />
<br />
یہ گلو گرفتہ و بستہء رسنِ جفا، مرے ہم قلم<br />
کبھی جابروں کے دلوں میں خوفِ مکالمہ بھی تو دیکھتے<br />
<br />
یہ جو پتھروں میں چھپی ہوئی ہے شبیہ، یہ بھی کمال ہے<br />
وہ جو آئینے میں ہمک رہا ہے وہ معجزہ بھی تو دیکھتے<br />
<br />
جو ہوا کے رخ پہ کھلے ہوئے ہیں وہ بادباں تو نظر میں ہیں<br />
وہ جو موجِ خوں سے الجھ رہا ہے وہ حوصلہ بھی تو دیکھتے<br />
<br />
یہ جو آبِ ذر سے رقم ہوئی ہے یہ داستان بھی مستند<br />
وہ جو خونِ دل سے لکھا گیا ہے وہ حاشیہ بھی تو دیکھتے<br />
<br />
میں تو خاک تھا کسی چشم ناز میں آگیا ہوں تو مہر ہوں<br />
مرے مہرباں کبھی اک نظر مرا سلسلہ بھی تو دیکھتے</div>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div style="text-align: center;">پس گرد جادہء درد نور کا قافلہ بھی تو دیکھتے<br />
جو دلوں سے ہو کے گزر رہا ہے وہ راستہ بھی تو دیکھتے<br />
<br />
یہ دھواں جو ہے یہ کہاں کا ہے وہ جو آگ تھی وہ کہاں کی تھی<br />
کبھی راویانِ خبر زدہ پسِ واقعہ بھی تو دیکھتے<br />
<br />
یہ گلو گرفتہ و بستہء رسنِ جفا، مرے ہم قلم<br />
کبھی جابروں کے دلوں میں خوفِ مکالمہ بھی تو دیکھتے<br />
<br />
یہ جو پتھروں میں چھپی ہوئی ہے شبیہ، یہ بھی کمال ہے<br />
وہ جو آئینے میں ہمک رہا ہے وہ معجزہ بھی تو دیکھتے<br />
<br />
جو ہوا کے رخ پہ کھلے ہوئے ہیں وہ بادباں تو نظر میں ہیں<br />
وہ جو موجِ خوں سے الجھ رہا ہے وہ حوصلہ بھی تو دیکھتے<br />
<br />
یہ جو آبِ ذر سے رقم ہوئی ہے یہ داستان بھی مستند<br />
وہ جو خونِ دل سے لکھا گیا ہے وہ حاشیہ بھی تو دیکھتے<br />
<br />
میں تو خاک تھا کسی چشم ناز میں آگیا ہوں تو مہر ہوں<br />
مرے مہرباں کبھی اک نظر مرا سلسلہ بھی تو دیکھتے</div>]]></content:encoded>
		</item>
		<item>
			<title><![CDATA[وہی آہٹیں درو بام پر وہی رتجگوں کے عذاب ہیں]]></title>
			<link>http://urducomputing.com/thread-3024.html</link>
			<pubDate>Sun, 14 Mar 2010 23:44:56 -0600</pubDate>
			<dc:creator>کامران خان</dc:creator>
			<guid isPermaLink="false">http://urducomputing.com/thread-3024.html</guid>
			<description><![CDATA[<div style="text-align: center;">
وہی آہٹیں درو بام پر وہی رتجگوں کے عذاب ہیں<br />
وہی ادھ بجھی میرے نیند ہے وہی ادھ جلے میرے خواب ہیں<br />
<br />
میرے سامنے یہ جو خواہشوں کی دھند حدِّ نگاہ تک<br />
پرے اس کے جانے حقیقتیں ، کہ حقیقتوں کے سراب ہیں<br />
<br />
میری دسترس میں کبھی تو ہوں جو ہیں گھڑیاں کیف و نشاط کی<br />
ہے یہ کیا، کہ آہئیں ادھر کبھی تو لگے کہ پا بہ رکاب ہیں<br />
<br />
کبھی چاہا خود کو سمیٹنا تو بکھر کے اور بھی رہ گیا<br />
ہیں کرچی کرچی پڑے ہوئے میرے سامنے میرے خواب ہیں<br />
<br />
یہنہ پوچھ کیسے بسر کیے ، شب و روز کتنے پہر جیئے<br />
کسے رات دن کی تمیز تھی کسےیاد اتنے حساب ہیں<br />
<br />
انہیں خوف رسم و رواج کا ہمیں وضع اہنی عزیز ہے<br />
وہ روایتوں کی پناۃ میں ، ہم ان کے زیرِ عتاب ہیں<br />
<br />
ابھی زخمِ نو کا شمار کیا ابھِی رت ہے دل کے سنگھار کی<br />
ابھی او رپھوٹیں گی کونپلیں ابھِ اور کھلنے گلاب ہیں</div>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div style="text-align: center;">
وہی آہٹیں درو بام پر وہی رتجگوں کے عذاب ہیں<br />
وہی ادھ بجھی میرے نیند ہے وہی ادھ جلے میرے خواب ہیں<br />
<br />
میرے سامنے یہ جو خواہشوں کی دھند حدِّ نگاہ تک<br />
پرے اس کے جانے حقیقتیں ، کہ حقیقتوں کے سراب ہیں<br />
<br />
میری دسترس میں کبھی تو ہوں جو ہیں گھڑیاں کیف و نشاط کی<br />
ہے یہ کیا، کہ آہئیں ادھر کبھی تو لگے کہ پا بہ رکاب ہیں<br />
<br />
کبھی چاہا خود کو سمیٹنا تو بکھر کے اور بھی رہ گیا<br />
ہیں کرچی کرچی پڑے ہوئے میرے سامنے میرے خواب ہیں<br />
<br />
یہنہ پوچھ کیسے بسر کیے ، شب و روز کتنے پہر جیئے<br />
کسے رات دن کی تمیز تھی کسےیاد اتنے حساب ہیں<br />
<br />
انہیں خوف رسم و رواج کا ہمیں وضع اہنی عزیز ہے<br />
وہ روایتوں کی پناۃ میں ، ہم ان کے زیرِ عتاب ہیں<br />
<br />
ابھی زخمِ نو کا شمار کیا ابھِی رت ہے دل کے سنگھار کی<br />
ابھی او رپھوٹیں گی کونپلیں ابھِ اور کھلنے گلاب ہیں</div>]]></content:encoded>
		</item>
		<item>
			<title><![CDATA[وہ کہتی ہے]]></title>
			<link>http://urducomputing.com/thread-3023.html</link>
			<pubDate>Sun, 14 Mar 2010 23:40:43 -0600</pubDate>
			<dc:creator>کامران خان</dc:creator>
			<guid isPermaLink="false">http://urducomputing.com/thread-3023.html</guid>
			<description><![CDATA[<span style="font-weight: bold;"><div style="text-align: center;">
<br />
وہ کہتی ہے<br />
<br />
محبت کو اناٹومائیزکر دینا نہیں اچھا<br />
تمہارے لفظ پورے ہیں <br />
مگر پھر بھی ادھورے ہیں<br />
کسی خاموش شب <br />
میرے فلک پہ آ کے<br />
اپنے ہونے کی روشن گواہی دو<br />
محبت روح ہوتی ہے سمجھتے ہو<br />
بدن سے روح کی ہمسائیگی کو بھی سمجھ جاؤ<br />
محبت کی اجازت کے سمے اک روز آجاؤ<br />
بدن سے روح کا گھر پوچھتے ہیں <br />
<br />
<br />
ڈاکٹر ابرار عمر <br />
<br />
 </div></span>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<span style="font-weight: bold;"><div style="text-align: center;">
<br />
وہ کہتی ہے<br />
<br />
محبت کو اناٹومائیزکر دینا نہیں اچھا<br />
تمہارے لفظ پورے ہیں <br />
مگر پھر بھی ادھورے ہیں<br />
کسی خاموش شب <br />
میرے فلک پہ آ کے<br />
اپنے ہونے کی روشن گواہی دو<br />
محبت روح ہوتی ہے سمجھتے ہو<br />
بدن سے روح کی ہمسائیگی کو بھی سمجھ جاؤ<br />
محبت کی اجازت کے سمے اک روز آجاؤ<br />
بدن سے روح کا گھر پوچھتے ہیں <br />
<br />
<br />
ڈاکٹر ابرار عمر <br />
<br />
 </div></span>]]></content:encoded>
		</item>
		<item>
			<title><![CDATA[چاند جلتا رہا]]></title>
			<link>http://urducomputing.com/thread-3022.html</link>
			<pubDate>Sun, 14 Mar 2010 23:38:40 -0600</pubDate>
			<dc:creator>کامران خان</dc:creator>
			<guid isPermaLink="false">http://urducomputing.com/thread-3022.html</guid>
			<description><![CDATA[<div style="text-align: center;"><img src="http://i42.tinypic.com/15i7sb4.jpg" border="0" alt="[تصویر: 15i7sb4.jpg&#93;" /></div>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div style="text-align: center;"><img src="http://i42.tinypic.com/15i7sb4.jpg" border="0" alt="[تصویر: 15i7sb4.jpg]" /></div>]]></content:encoded>
		</item>
		<item>
			<title><![CDATA[““جاپانی ذہنیت““]]></title>
			<link>http://urducomputing.com/thread-3021.html</link>
			<pubDate>Sun, 14 Mar 2010 23:20:00 -0600</pubDate>
			<dc:creator>أضواء الشرقية</dc:creator>
			<guid isPermaLink="false">http://urducomputing.com/thread-3021.html</guid>
			<description><![CDATA[<span style="color: #0000CD;"><div style="text-align: center;">““جاپانی ذہنیت““<br />
<br />
(1)<br />
<br />
<img src="http://img10.imageshack.us/img10/9301/26883928qj4.jpg" border="0" alt="[تصویر: 26883928qj4.jpg&#93;" /><br />
<br />
<br />
<br />
(2)<br />
<br />
<img src="http://img10.imageshack.us/img10/562/34397033ls3.jpg" border="0" alt="[تصویر: 34397033ls3.jpg&#93;" /><br />
<br />
<br />
<br />
(3)<br />
<br />
<br />
<img src="http://img10.imageshack.us/img10/9862/80564975qk8.jpg" border="0" alt="[تصویر: 80564975qk8.jpg&#93;" /><br />
<br />
(4)<br />
<br />
<br />
<img src="http://img10.imageshack.us/img10/1015/45425280im1.jpg" border="0" alt="[تصویر: 45425280im1.jpg&#93;" /><br />
<br />
(5)<br />
<br />
<img src="http://img9.imageshack.us/img9/2592/38292640yf8.jpg" border="0" alt="[تصویر: 38292640yf8.jpg&#93;" /><br />
<br />
(6)<br />
<br />
<img src="http://img9.imageshack.us/img9/3928/19076546dg0.jpg" border="0" alt="[تصویر: 19076546dg0.jpg&#93;" /><br />
<br />
<br />
<br />
::</div></span>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<span style="color: #0000CD;"><div style="text-align: center;">““جاپانی ذہنیت““<br />
<br />
(1)<br />
<br />
<img src="http://img10.imageshack.us/img10/9301/26883928qj4.jpg" border="0" alt="[تصویر: 26883928qj4.jpg]" /><br />
<br />
<br />
<br />
(2)<br />
<br />
<img src="http://img10.imageshack.us/img10/562/34397033ls3.jpg" border="0" alt="[تصویر: 34397033ls3.jpg]" /><br />
<br />
<br />
<br />
(3)<br />
<br />
<br />
<img src="http://img10.imageshack.us/img10/9862/80564975qk8.jpg" border="0" alt="[تصویر: 80564975qk8.jpg]" /><br />
<br />
(4)<br />
<br />
<br />
<img src="http://img10.imageshack.us/img10/1015/45425280im1.jpg" border="0" alt="[تصویر: 45425280im1.jpg]" /><br />
<br />
(5)<br />
<br />
<img src="http://img9.imageshack.us/img9/2592/38292640yf8.jpg" border="0" alt="[تصویر: 38292640yf8.jpg]" /><br />
<br />
(6)<br />
<br />
<img src="http://img9.imageshack.us/img9/3928/19076546dg0.jpg" border="0" alt="[تصویر: 19076546dg0.jpg]" /><br />
<br />
<br />
<br />
::</div></span>]]></content:encoded>
		</item>
		<item>
			<title><![CDATA[کیا ہم طالبانائزیشن کی راہ ہموار کررہے ہیں]]></title>
			<link>http://urducomputing.com/thread-3020.html</link>
			<pubDate>Sun, 14 Mar 2010 05:33:26 -0600</pubDate>
			<dc:creator>اسداللہ شاہ</dc:creator>
			<guid isPermaLink="false">http://urducomputing.com/thread-3020.html</guid>
			<description><![CDATA[شکریہ شازل بھائی کا جن کے بلاگ سے یہ تحریر لی ہے۔<br />
<br />
<br />
اس وقت پورا ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں*آیا ہوا ہے، پہلے تو سیکورٹی فورسز اور ایک مخصوص فرقے کو نشانہ بنایا جاتا تھا لیکن کچھ دن سے عام لوگوں کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے<br />
یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ ہوسکتا ہے کہ طالبان کی آڑ میں دوسرے ممالک اپنا کھیل کھیل رہے ہوں،<br />
پورے ملک میں دہشت گردی کے خلاف ایک نفرت کا سماں بندھ چکا ہے اور شاید ہم بھی کچھ اس شدت سے ان سے نفرت کرنے لگے ہیں کہ طالبان کو تبلیغ اور دعوت سے منسلک کرکے اپنی نفرت کا اظہار کررہے ہیں،<br />
سلیم صافی نے ایک واقع لکھا ہے آپ بھی اسے ملاحظہ کریں اور اپنے طرز عمل کی روشنی میں فیصلہ کریں کہ کیا ہم واقعی طالبانائزیشن کی راہ تو ہموار نہیں کررہے،<br />
“مجھے تو بندوق بردار سندھ اور پنجاب پر بھی قابض ہوتے نظر آرہے ہیں۔کیونکہ وہاں کے وڈیرے اور جاگیردار شبانہ روز کوششوں کی وجہ سے ان ہی کی آمد کی راہ ہموار کر رہے ہیں ۔ یقین نہ آئے تو تھر کے علاقے کھپرو میں تبلیغی جماعت کے ایک وفد کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی روداد پڑھ لیجیے۔ یہ غالباً24 اکتوبر کا دن تھا۔ تبلیغی حضرات کی ایک جماعت اس علاقے میں دعوت و اصلاح کا فریضہ سرانجام دے رہی تھی۔ یہ علاقہ پیر پگارا کے دو بندوں احمد علی شر اور عبدالرحیم شرکے زیر اثر ہے۔ ان کے کارندے ان کو کسی مسجد میں قیام کی اجازت نہیں دے رہے تھے چنانچہ انہوں نے صحرا میں ایک درخت کے نیچے اپنا کیمپ لگا رکھا تھا اور آپس میں دعوت و تبلیغ میں مگن تھے۔<br />
ایک دن اچانک یہاں کے حاکموں کے غنڈوں نے ان کو گھیر لیا، ان کا سارا سامان چھین لیا، انہیں مارا پیٹا اور سب سے افسوسناک امر یہ کہ ان سب کی داڑھیاں منڈوائیں۔ ان کے جوتے تک چھین لیے اور وہ آبلہ پا گھنٹوں صحرا میں سفرکرکے اسپتال جاپہنچے لیکن افسوس کہ کوئی پولیس ان کی مدد کو آئی اور نہ کسی عدالت نے نوٹس لیا، کیونکہ یہاں پر ان وڈیروں کا ہی حکم چلتا ہے۔ یہی مظالم ہیں جو طالبانائزیشن کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ جب آپ جبراً داڑھیاں منڈوائیں گے تو پھر ردعمل میں جبراً داڑھیاں رکھوانے والے تو سامنے آئیں گے۔ جب آپ پرامن شہریوں کو پرامن تبلیغ کرنے نہیں دیں گے تو پھر دین کے نام پر ایسے لوگ تو سامنے آئیں گے جو بااثر لوگوں کو بھی جینے نہیں دیں گے۔ میں تبلیغی جماعت سے وابستہ ہوں اور نہ پوری طرح ان کے طریقہ کار سے متفق ہوں، لیکن میرے نزدیک ان دنوں پاکستان میں سب سے زیادہ ان لوگوں کی ضرورت ہے۔ یہی لوگ ہیں جو دین کی طرف بلاتے ہیں جو امن کا درس دیتے ہیں، جو صلہٴ رحمی کی تلقین کرتے ہیں، جو ظلم سہتے ہیں لیکن جواب میں تشدد کرنا تو دورکی بات، گالی یا بددعا بھی نہیں دیتے۔ یہی لوگ ہیں جو اسلام کے امن، سلامتی اور محبت کا پہلو اپنے قول و عمل سے اجاگر کرتے ہیں اور اسی سوچ کی ان دنوں پاکستان کو ضرورت ہے لیکن افسوس کہ ہمارے جاگیردار اور وڈیرے ان کے ساتھ یہ سلوک روا رکھتے ہیں۔ اب جب ہم ان جیسے لوگوں کے ساتھ یہ سلوک کریں گے تو پھر ردعمل میں دین کے نام پر وہ لوگ تو سامنے آئیں گے ہی جوگولی کا جواب گولی سے اور تشدد کا جواب تشدد سے دینا جانتے ہیں۔”]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[شکریہ شازل بھائی کا جن کے بلاگ سے یہ تحریر لی ہے۔<br />
<br />
<br />
اس وقت پورا ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں*آیا ہوا ہے، پہلے تو سیکورٹی فورسز اور ایک مخصوص فرقے کو نشانہ بنایا جاتا تھا لیکن کچھ دن سے عام لوگوں کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے<br />
یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ ہوسکتا ہے کہ طالبان کی آڑ میں دوسرے ممالک اپنا کھیل کھیل رہے ہوں،<br />
پورے ملک میں دہشت گردی کے خلاف ایک نفرت کا سماں بندھ چکا ہے اور شاید ہم بھی کچھ اس شدت سے ان سے نفرت کرنے لگے ہیں کہ طالبان کو تبلیغ اور دعوت سے منسلک کرکے اپنی نفرت کا اظہار کررہے ہیں،<br />
سلیم صافی نے ایک واقع لکھا ہے آپ بھی اسے ملاحظہ کریں اور اپنے طرز عمل کی روشنی میں فیصلہ کریں کہ کیا ہم واقعی طالبانائزیشن کی راہ تو ہموار نہیں کررہے،<br />
“مجھے تو بندوق بردار سندھ اور پنجاب پر بھی قابض ہوتے نظر آرہے ہیں۔کیونکہ وہاں کے وڈیرے اور جاگیردار شبانہ روز کوششوں کی وجہ سے ان ہی کی آمد کی راہ ہموار کر رہے ہیں ۔ یقین نہ آئے تو تھر کے علاقے کھپرو میں تبلیغی جماعت کے ایک وفد کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی روداد پڑھ لیجیے۔ یہ غالباً24 اکتوبر کا دن تھا۔ تبلیغی حضرات کی ایک جماعت اس علاقے میں دعوت و اصلاح کا فریضہ سرانجام دے رہی تھی۔ یہ علاقہ پیر پگارا کے دو بندوں احمد علی شر اور عبدالرحیم شرکے زیر اثر ہے۔ ان کے کارندے ان کو کسی مسجد میں قیام کی اجازت نہیں دے رہے تھے چنانچہ انہوں نے صحرا میں ایک درخت کے نیچے اپنا کیمپ لگا رکھا تھا اور آپس میں دعوت و تبلیغ میں مگن تھے۔<br />
ایک دن اچانک یہاں کے حاکموں کے غنڈوں نے ان کو گھیر لیا، ان کا سارا سامان چھین لیا، انہیں مارا پیٹا اور سب سے افسوسناک امر یہ کہ ان سب کی داڑھیاں منڈوائیں۔ ان کے جوتے تک چھین لیے اور وہ آبلہ پا گھنٹوں صحرا میں سفرکرکے اسپتال جاپہنچے لیکن افسوس کہ کوئی پولیس ان کی مدد کو آئی اور نہ کسی عدالت نے نوٹس لیا، کیونکہ یہاں پر ان وڈیروں کا ہی حکم چلتا ہے۔ یہی مظالم ہیں جو طالبانائزیشن کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ جب آپ جبراً داڑھیاں منڈوائیں گے تو پھر ردعمل میں جبراً داڑھیاں رکھوانے والے تو سامنے آئیں گے۔ جب آپ پرامن شہریوں کو پرامن تبلیغ کرنے نہیں دیں گے تو پھر دین کے نام پر ایسے لوگ تو سامنے آئیں گے جو بااثر لوگوں کو بھی جینے نہیں دیں گے۔ میں تبلیغی جماعت سے وابستہ ہوں اور نہ پوری طرح ان کے طریقہ کار سے متفق ہوں، لیکن میرے نزدیک ان دنوں پاکستان میں سب سے زیادہ ان لوگوں کی ضرورت ہے۔ یہی لوگ ہیں جو دین کی طرف بلاتے ہیں جو امن کا درس دیتے ہیں، جو صلہٴ رحمی کی تلقین کرتے ہیں، جو ظلم سہتے ہیں لیکن جواب میں تشدد کرنا تو دورکی بات، گالی یا بددعا بھی نہیں دیتے۔ یہی لوگ ہیں جو اسلام کے امن، سلامتی اور محبت کا پہلو اپنے قول و عمل سے اجاگر کرتے ہیں اور اسی سوچ کی ان دنوں پاکستان کو ضرورت ہے لیکن افسوس کہ ہمارے جاگیردار اور وڈیرے ان کے ساتھ یہ سلوک روا رکھتے ہیں۔ اب جب ہم ان جیسے لوگوں کے ساتھ یہ سلوک کریں گے تو پھر ردعمل میں دین کے نام پر وہ لوگ تو سامنے آئیں گے ہی جوگولی کا جواب گولی سے اور تشدد کا جواب تشدد سے دینا جانتے ہیں۔”]]></content:encoded>
		</item>
		<item>
			<title><![CDATA[کاغذ کاغذ حرف سجایا کرتا تھا]]></title>
			<link>http://urducomputing.com/thread-3019.html</link>
			<pubDate>Sun, 14 Mar 2010 00:11:57 -0700</pubDate>
			<dc:creator>کامران خان</dc:creator>
			<guid isPermaLink="false">http://urducomputing.com/thread-3019.html</guid>
			<description><![CDATA[<span style="font-size: x-large;"><div style="text-align: center;">کاغذ کاغذ حرف سجایا کرتا تھا<br />
<img src="http://i42.tinypic.com/a31000.jpg" border="0" alt="[تصویر: a31000.jpg&#93;" /><br />
<br />
کاغذ کاغذ حرف سجایا کرتا تھا</div></span>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<span style="font-size: x-large;"><div style="text-align: center;">کاغذ کاغذ حرف سجایا کرتا تھا<br />
<img src="http://i42.tinypic.com/a31000.jpg" border="0" alt="[تصویر: a31000.jpg]" /><br />
<br />
کاغذ کاغذ حرف سجایا کرتا تھا</div></span>]]></content:encoded>
		</item>
	</channel>
</rss>